शनिवार, 13 अगस्त 2011

Shadi Aur Muslim Muaashira

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہ ایک اہل حدیث معاشرہ ہے۔ لیکن اس معاشرے میں کئ باتیں ایسی رچ بس گئ ہیں کہ ہمیں ی انکا احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم کیا کر رہیں ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم قرآن اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر جزوی طور پر ہی اپنی خواہش کے مطابق  چلنا چاہتے ہیں۔ ہماری طرز زندگی میں کئ مقام ایسے آتے ہیں کہ وہ شریعت کو بالاے طاق رکھے رہتے ہیں۔ اس کڑی میں ہمارے کچھ عمل ایسے ہیں جو شریعت کے ساتھ گھال میل ہیں اور ہم اسے مجموئ طور پر انجام دیتے ہیں وہ شادی بیاہ کے موقع پر اکثر دیکھتے ہیں۔انمیں سے ایک ہے نکاح کے موقع پر لڑکی کے گھر مختلف قسم کے پکوانوں کی چاہ میں  کئ سو افراد کو لیکر دعوت اڑانے جانا اور دیگر غیر شرعی کاموں کے لیے جٹنا۔
اس موقع پر غیر شرعی کاموں  میں کھڑے ہوکر دعوت بھی کھانا ہے، جبکہ قرآن مجید میں ہے  وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمْ﴿047:012﴾ (ترجمعہ) اور جو لوگ کافر ہوئے وہ (دنیا ہی کا) فائدہ اٹھا رہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھا رہے ہیں (١) ان کا اصل ٹھکانا جہنم ہے۔
‏ تفسیر احسن البیان میں ہے
  یعنی جس طرح جانوروں کو پیٹ اور جنس کے تقاضے پورے کرنے کے علاوہ اور کوئ کام نہیں ہوتا۔ یہی حال کافروں کا ہے، انکا مقصدِ زندگی بھی کھانے پینے کے علاوہ کچھ نہیں، آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں اس سے ضمناً کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت کا بھی اثبات ہوتا ہے، جس کا آج کل دعوتوں میں عام رواج ہے کیوں کہ اس میں بھی جانوروں سے مشابہت ہے جسے کافروں کا شیوہ بتلایا گیا ہے۔
آگرہ اندیا میں مشہور و معروف عالمِ دین جناب رضاءاللہ عبد الکریم مدنی صاحب نے سوال و جواب کے ایک موقع پر مذکورہ بالا معاشرتی رواج کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ایسا کرنا جہالت ہے اور غیر قوموں کی نقل ہے۔ اور اسکے بعدابھی  زیادہ وقت نہیں گزرا یکم اپریل 2011  کو مقامی جلسہ کے انعقاد کے موقع پرخصوصی خطیب  جناب مولانا مطیع الرحمن چترویدی صاحب کے دوران ِ خطاب سامعین سے ایک سوال داغنے پر پورے جلسے میں سکوت طاری ہوگیا۔ سوال بہن کو وراثت کے حق سے متعلق تھا۔ سکوت طاری ہونے کی نوبت کیوں آئ، اسکے کچھ اسباب ہو سکتے ہیں مثلاً غیر قوموں کی نقل کرتے ہوےء جہیزو باراتیوں کیلےء  ایک خطیررقم خرچ کرنا۔ شادی کے بعد بھی سلامی، چھوتھی وغیرہ کے نام پر فضول خرچی و غیر شرعی کام کرنا، لیکن بہن کو وراثت کے حق سے محروم رکھنا۔

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें